لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارا کیے جائیں
ایک نام ایک ندا پر جو گزارا کیے جائیں
Related posts
-
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
-
